السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: إتمام المغرب في السفر والحضر وأن لا قصر فيها باب: سفر اور حضر میں مغرب کی نماز پوری پڑھنے کا بیان اور یہ کہ اس میں قصر نہیں ہے
حدیث نمبر: 5443
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّبِيعِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ فُرِضَتْ ثَلَاثًا، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ صَلَّى الصَّلَاةَ الْأُولَى وَإِذَا أَقَامَ زَادَ مَعَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ لِأَنَّهَا وِتْرٌ، وَالصُّبْحُ تَطُولُ فِيهَا الْقِرَاءَةُ ". هَكَذَا رَوَاهُ عَبْدُ الْوَهَّابِ. وَقَدْ رُوِّينَاهُ فِي أَوَّلِ كِتَابِ الصَّلَاةِ مِنْ حَدِيثِ بَكَّارِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِبَعْضِ مَعْنَاهُ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ.حافظ ثناء اللہ
عامر شعبی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نماز دو دو رکعات فرض کی گئیں سوائے مغرب کے، وہ تین رکعات ہی فرض کی گئی اور نبی ﷺ جب سفر کرتے تو پہلی نماز ہی پڑھا کرتے تھے اور جب زیادہ قیام کرتے تو دو دو رکعات ساتھ ملا لیتے، لیکن مغرب میں نہیں؛ کیونکہ یہ وتر ہیں اور صبح کی نماز بھی نہیں؛ کیونکہ اس میں قراءت لمبی ہوتی ہے۔