السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: إتمام المغرب في السفر والحضر وأن لا قصر فيها باب: سفر اور حضر میں مغرب کی نماز پوری پڑھنے کا بیان اور یہ کہ اس میں قصر نہیں ہے
حدیث نمبر: 5442
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْحِلِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ يُصَلِّي بِنَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، إِلَّا الْمَغْرِبَ حَتَّى رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ ". قَالَ: قُلْنَا لِأَنَسٍ: كَمْ أَقَمْتُمْ بِمَكَّةَ؟ قَالَ: " أَقَمْنَا عَشَرَةَ أَيَّامٍ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف چلے تو نبی ﷺ نے مدینہ واپسی تک ہمیں دو دو رکعات نماز پڑھائی، لیکن مغرب کی تین رکعتیں پڑھائیں۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے مکہ میں کتنی دیر قیام کیا؟ فرمایا: دس دن۔