السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من ترك القصر في السفر غير رغبة عن السنة باب: جس نے سنت سے اعراض کی نیت کے بغیر سفر میں قصر کرنا چھوڑ دیا
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ إِسْرَائِيلُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ قَالَ: " أَقْبَلَ سَلْمَانُ فِي اثْنَيْ عَشَرَ رَاكِبًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَقَالُوا: تَقَدَّمْ يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " إِنَّا لَا نَؤُمُّكُمْ وَلَا نَنْكِحُ نِسَاءَكُمْ، إِنَّ اللهَ هَدَانَا بِكُمْ " قَالَ: فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَصَلَّى بِنَا أَرْبَعًا، قَالَ: فَقَالَ سَلْمَانُ: " مَالَنَا وَلِلْمُرَبَّعَةِ، إِنَّمَا كَانَ يَكْفِينَا نِصْفُ الْمُرَبَّعَةِ، وَنَحْنُ إِلَى الرُّخْصَةِ أَحْوَجُ ". فَبَيَّنَ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ بِمَشْهَدِ هَؤُلَاءِ الصَّحَابَةِ أَنَّ الْقَصْرَ رُخْصَةٌ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، وَرُوِّينَا عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ أَنَّهُمَا كَانَا يُتِمَّانِ الصَّلَاةَ فِي السَّفَرِ وَيَصُومَانِ، وَرُوِّينَا جَوَازُ الْأَمْرَيْنِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي قِلَابَةَ.(الف) ابو لیلیٰ کندی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے صحابہ کے ساتھ آئے جو سوار تھے، نماز کا وقت ہو گیا تو انہوں نے کہا: اے ابو عبداللہ! آگے بڑھو، تو ابو عبداللہ کہنے لگے: نہ تو ہم تمہاری امامت کروائیں گے اور نہ ہی تمہاری عورتوں کے نکاح پڑھائیں گے، کیونکہ تمہاری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت دی ہے۔ چنانچہ قوم کے ایک آدمی نے ان کو چار رکعات پڑھائیں۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں چار سے کیا واسطہ؟ ہمیں تو دو رکعات ہی کافی تھیں اور رخصت پر عمل زیادہ احتیاط والی بات ہے۔ ان صحابہ کی موجودگی میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قصر رخصت ہے۔
(ب) مسور بن مخرمہ اور عبد الرحمن بن اسود بن عبد یغوث رضی اللہ عنہما دونوں حضرات سفر میں مکمل نماز پڑھتے تھے اور روزہ بھی رکھتے تھے۔