السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من ترك القصر في السفر غير رغبة عن السنة باب: جس نے سنت سے اعراض کی نیت کے بغیر سفر میں قصر کرنا چھوڑ دیا
حدیث نمبر: 5419
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَابَيْهِ، عَنْ يَعْلَى قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {أَنْ تَقْصُرُوا} [النساء: ١٠١] مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمْ، قَالَ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللهُ عَلَيْكُمْ بِهَا، فَاقْبَلُوهَا ".حافظ ثناء اللہ
یعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ﴾ [سورة النساء: 101] ”نماز قصر کرو اگر تمہیں فتنہ کا ڈر ہو“؟ انہوں نے فرمایا: میں بھی حیران ہوا تھا جیسے آپ حیران ہوئے تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ صدقہ ہے جو اللہ نے تمہارے اوپر کیا ہے اس کو قبول کرو۔“