السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: حجة من قال: لا تقصر الصلاة في أقل من ثلاثة أيام باب: اس شخص کی دلیل جس نے کہا کہ تین دن سے کم کے سفر میں نماز قصر نہیں کی جائے گی
حدیث نمبر: 5412
وَقَدْ رَوَى سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُسَافِرُ امْرَأَةٌ بَرِيدًا إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ ". أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، فَذَكَرَهُ. وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ فِي الثَّلَاثَةِ وَالْيَوْمَيْنِ وَالْيَوْمِ صَحِيحَةٌ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ تُسَافِرُ ثَلَاثًا مِنْ غَيْرِ مَحْرَمٍ فَقَالَ: " لَا " وَسُئِلَ عَنْهَا تُسَافِرُ يَوْمَيْنِ مِنْ غَيْرِ مَحْرَمٍ فَقَالَ: " لَا " وَيَوْمًا ⦗٢٠٠⦘ فَقَالَ: " لَا " فَأَدَّى كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ مَا حَفِظَ وَلَا يَكُونُ عَدَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأَعْدَادِ حَدًّا لِلسَّفَرِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کوئی عورت برید کا سفر اپنے محرم کے بغیر نہ کرے۔“
نوٹ: جن روایات میں ایک یا دو یا تین دن کا ذکر ہے وہ صحیح ہیں۔
نبی ﷺ سے سوال پوچھا گیا کہ کیا عورت تین دن کا سفر بغیر محرم کے کر سکتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ اور آپ ﷺ سے دو دن کے سفر کے بارے میں سوال ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ اور ایک دن کے متعلق سوال ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ جس کو جو یاد تھا اس نے بیان کر دیا اور یہ تعداد سفر کی کوئی حد بیان نہیں کرتی۔