السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: حجة من قال: لا تقصر الصلاة في أقل من ثلاثة أيام باب: اس شخص کی دلیل جس نے کہا کہ تین دن سے کم کے سفر میں نماز قصر نہیں کی جائے گی
حدیث نمبر: 5411
فَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ لَيْلَةٍ إِلَّا وَمَعَهَا رَجُلٌ ذُو حُرْمَةٍ مِنْهَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ عَنِ اللَّيْثِ، وَهَذِهِ الرِّوَايَاتُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ كُلُّهَا مُتَّفِقَةٌ فِي مَتْنِ الْحَدِيثِ، لِأَنَّ مَنْ قَالَ: يَوْمًا أَرَادَ بِهِ بِلَيْلَتِهِ، وَمَنْ قَالَ: لَيْلَةً أَرَادَ بِيَوْمِهَا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی مسلم عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ ایک رات کا سفر بغیر محرم کے کرے۔“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایات میں جہاں «يَوْمًا» کا لفظ آیا ہے وہاں اس کی رات بھی مراد ہے اور جہاں «لَيْلَةً» رات کا لفظ آیا ہے وہاں اس کا دن بھی مراد ہے۔