السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما ورد في الاستنجاء بالتراب باب: مٹی سے استنجاء کرنے کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 540
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التَّرْقُفِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، نا أَبِي، عَنْ غَيْلَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مَوْلَى عُمَرَ يَسَارِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا بَالَ قَالَ: " نَاوِلْنِي شَيْئًا أَسْتَنْجِي بِهِ " قَالَ: فَأُنَاوِلُهُ الْعُودَ وَالْحَجَرَ، أَوْ يَأْتِي حَائِطًا يَمْسَحُ بِهِ أَوْ يَمَسَّ الْأَرْضَ، وَلَمْ يَكُنْ يَغْسِلُهُ " وَهَذَا أَصَحُّ مَا رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَعْلَاهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے غلام یسار بن نمیر سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب پیشاب کرتے تو کہتے: مجھے کوئی چیز دو جس سے میں استنجا کروں، راوی کہتا ہے: میں ان کو لکڑی اور پتھر دیتا یا آپ دیوار کے پاس آتے اور اس سے مسح کرتے یا زمین کو چھوتے اور اس کو دھوتے نہیں تھے۔
یہ اس باب میں مروی روایات میں سب سے زیادہ صحیح اور سب سے عالی ہے۔