السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
جماع أبواب صلاة المسافر والجمع في السفر -- باب: رخصة القصر في كل سفر لا يكون معصية، وإن كان المسافر آمنا باب: مسافر کی نماز اور سفر میں نمازیں جمع کرنے کے ابواب کا جامع بیان -- باب: ہر اس سفر میں قصر کی رخصت کا بیان جو نافرمانی (گناہ) پر مبنی نہ ہو، خواہ مسافر حالتِ امن میں ہو
حدیث نمبر: 5379
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلَ، وَمُسَدَّدٌ ⦗١٩٣⦘ قَالَا: ثنا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَابَيْهِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِقْصَارُ النَّاسِ الصَّلَاةَ الْيَوْمَ، وَإِنَّمَا قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ {إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا} [النساء: ١٠١] فَقَدْ ذَهَبَ ذَلِكَ الْيَوْمَ، فَقَالَ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللهُ جَلَّ وَعَزَّ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ.حافظ ثناء اللہ
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: لوگ آج بھی نماز قصر کرتے ہیں حالانکہ اللہ کا فرمان ہے: ﴿إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ [سورة النساء: 101] ”اگر تمہیں خوف ہو کہ کافر لوگ تمہیں فتنہ میں ڈال دیں گے“۔ خوف تو ختم ہو چکا۔ آپ نے فرمایا: میں نے بھی اس بات سے تعجب کیا تھا جس طرح تو نے تعجب کیا ہے۔ میں نے یہ بات نبی ﷺ سے ذکر کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: «صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ» ”یہ اللہ کا صدقہ ہے جو اللہ نے تم پر کیا ہے، تو اللہ کے صدقہ کو قبول کرو۔“