السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المرأة تشهد المسجد للصلاة لا تمس طيبا باب: عورت نماز کے لیے مسجد میں حاضر ہو تو خوشبو نہ لگائے
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ مِنْ أَشْيَاخِ كُوثَى مَوْلَى أَبِي رُهْمٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ ضُحًى فَلَقِيَتْنَا امْرَأَةٌ بِهَا مِنَ الْعِطْرِ شَيْءٌ لَمْ أَجِدْ بِأَنْفِي مِثْلَهُ قَطُّ، فَقَالَ لَهَا أَبُو هُرَيْرَةَ: عَلَيْكِ السَّلَامُ، فَقَالَتْ: وَعَلَيْكَ، قَالَ: فَأَيْنَ تُرِيدِينَ؟ قَالَتْ: الْمَسْجِدَ، قَالَ: وَلِأِيِّ شَيْءٍ تَطَيَّبْتِ بِهَذَا الطِّيبِ؟ قَالَتْ: لِلْمَسْجِدِ، قَالَ: آللَّهِ؟ قَالَتْ: آللَّهِ، قَالَ: آللَّهِ؟ قَالَتْ: آللَّهِ، قَالَ: فَإِنَّ حِبِّي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ " لَا تُقْبَلُ لِامْرَأَةٍ صَلَاةٌ تَطَيَّبَتْ بِطِيبٍ لِغَيْرِ زَوْجِهَا حَتَّى تَغْتَسِلَ مِنْهُ غُسْلَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ "، فَاذْهَبِي فَاغْتَسِلِي مِنْهُ، ثُمَّ ارْجِعِي فَصَلِّي. جَدُّهُ أَبُو الْحَارِثِ عُبَيْدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي الْحَارِثِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، وَرَوَاهُ عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلَى أَبِي رُهْمٍ.عبد الرحمٰن بن حارث بن ابی عبید، جو کوفی کے شیوخ میں سے ہیں اور ابو رُہم غفاری کے غلام ہیں، اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ وقتِ چاشت مسجد سے نکلا تو ہمیں ایک عورت ملی جس نے عطر لگا رکھا تھا، میں نے اس طرح کی خوشبو پہلے کبھی نہ سونگھی تھی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس کو سلام کیا تو اس نے جواب دیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تو کہاں کا ارادہ رکھتی ہے؟ کہنے لگی: مسجد کا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تو نے کیوں خوشبو لگا رکھی ہے؟ کہنے لگی: مسجد کے لیے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا اللہ کی قسم! کہنے لگی: ہاں اللہ کی قسم! ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! تو عورت نے بھی کہا: اللہ کی قسم! پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اپنے محبوب ابوالقاسم ﷺ سے سنا: ”ایسی عورت جو اپنے خاوند کے بغیر کسی کے لیے خوشبو کا استعمال کرتی ہے تو اس کی نماز قبول نہیں کی جائے گی یہاں تک کہ وہ غسلِ جنابت کی طرح غسل کر لے“، تو وہ واپس پلٹی اور غسل کر کے نماز پڑھی۔