السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المرأة تشهد المسجد للصلاة لا تمس طيبا باب: عورت نماز کے لیے مسجد میں حاضر ہو تو خوشبو نہ لگائے
حدیث نمبر: 5375
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْمِصْرِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ الْكَيْسَانِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ لَقِيَ امْرَأَةً تَعْصِفُ رِيحُهَا، فَقَالَ: يَا أَمَةَ الْجَبَّارِ، تُرِيدِينَ الْمَسْجِدَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ: وَلَهُ تَطَيَّبْتِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: فَارْجِعِي، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنِ امْرَأَةٍ تَخْرُجُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَتَعْصِفُ رِيحُهَا فَيَقْبَلُ اللهُ مِنْهَا صَلَاةً حَتَّى تَرْجِعَ فَتَغْتَسِلَ ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ.حافظ ثناء اللہ
موسیٰ بن یسار سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کو ایک عورت ملی، اس سے خوشبو آرہی تھی۔ انہوں نے پوچھا: اے جبار کی بندی! تو مسجد کا ارادہ رکھتی ہے؟ کہنے لگی: جی ہاں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو نے خوشبو لگا رکھی ہے؟ کہنے لگی: ہاں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واپس لوٹ جا؛ کیونکہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے: ”جو عورت خوشبو لگا کر مسجد کو آئے اور اس سے خوشبو آرہی ہو تو وہ واپس پلٹ کر غسل کرے تب اللہ اس کی نماز قبول کرے گا“۔