حدیث نمبر: 5353
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَامِيِّ رَحِمَهُ اللهُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ جُمَيْعٍ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهَا وَيُسَمِّيهَا الشَّهِيدَةَ، وَكَانَتْ قَدْ جَمَعَتِ الْقُرْآنَ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ غَزَا بَدْرًا قَالَتْ: تَأْذَنُ لِي فَأَخْرُجَ مَعَكَ أُدَاوِي جَرْحَاكُمْ، أُمَرِّضُ مَرْضَاكُمْ لَعَلَّ اللهَ تَعَالَى يُهْدِي لِي شَهَادَةً قَالَ: " إِنَّ اللهَ تَعَالَى مُهْدٍ لَكِ شَهَادَةً "،.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ ام ورقہ بنت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لاتے تھے، آپ ﷺ نے ان کا نام شہیدہ رکھا ہوا تھا، ان کو قرآن یاد تھا۔ نبی ﷺ جب غزوہ بدر کے لیے نکلے تو وہ کہنے لگیں: مجھے بھی اجازت دیں تاکہ میں زخمیوں کو دوا دوں گی اور مریضوں کی تیمار داری کروں گی، شاید اللہ مجھے بھی شہادت دے دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تجھے شہادت کا ہدیہ دینے والا ہے۔“ آپ ﷺ ان کا نام شہیدہ لیتے تھے۔ نبی ﷺ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھر والوں کی امامت کروائیں۔ ان کی لونڈی اور غلام نے مل کر ان کو عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں مار ڈالا۔ کہا گیا کہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا کو اس کے غلام اور لونڈی نے قتل کر دیا ہے اور وہ دونوں بھاگ گئے۔ ان کو پکڑ کر لایا گیا اور سولی دی گئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے صحیح فرمایا تھا کہ ”چلو ہم شہیدہ سے ملنے چلیں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5353
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ احمد 6/405»