السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الإمام يعتمد على الشيء قبل افتتاح الصلاة وبعده باب: امام کا نماز شروع کرنے سے پہلے اور اس کے بعد کسی چیز پر سہارا لینا
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرِ بْنِ مَطَرٍ الْحَذَّاءُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ أَبُو الْأَسْوَدِ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ خَبَّابٍ قَالَ: جَاءَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَقَعَدَ مَكَانَكَ، فَقَالَ: تَدْرُونَ مَا هَذَا الْعُودُ؟ قُلْنَا: لَا، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ أَخَذَهُ بِيَمِينِهِ فَقَالَ: " اعْتَدِلُوا، سَوُّوا صُفُوفَكُمْ "، ثُمَّ أَخَذَهُ بِيَسَارِهِ فَقَالَ: " اعْتَدِلُوا، سَوُّوا صُفُوفَكُمْ " فَلَمَّا هُدِمَ الْمَسْجِدُ فُقِدَ، فَالْتَمَسَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَوَجَدَهُ قَدْ أَخَذَهُ بَنُو عَمْرِو بْنُ عَوْفٍ فَجَعَلُوهُ فِي مَسْجِدِهِمْ، فَأَخَذَهُ فَأَعَادَهُ ". وَرُوِّينَا فِي أَبْوَابِ الْعَمَلِ فِي الصَّلَاةِ عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَسَنَّ وَحَمَلَ اللَّحْمَ اتَّخَذَ عَمُودًا فِي مُصَلَّاهُ يَعْتَمِدُ عَلَيْهِ.محمد بن مسلم بن خباب فرماتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ آئے اور اپنی جگہ بیٹھ گئے۔ کہنے لگے: ”جانتے ہو یہ لکڑی کیسی ہے؟“ ہم نے کہا: نہیں۔ فرمایا: جب نبی ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اس کو داہنے ہاتھ میں پکڑ لیتے اور فرماتے: ”سیدھے ہو جاؤ، اپنی صفیں سیدھی کرو۔“ پھر اس کو الٹے ہاتھ میں پکڑ لیتے اور فرماتے: ”سیدھے ہو جاؤ، اپنی صفیں سیدھی کرلو۔“ جب مسجد گرا دی گئی تو وہ لکڑی گم ہوگئی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو تلاش کیا تو پایا کہ بنو عمرو بن عوف نے اسے لے کر اپنی مسجد میں رکھ لیا تھا، تو آپ نے اسے لیا اور واپس لوٹا دیا۔
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بھاری ہو گئے تو اپنی نماز کی جگہ پر ایک ستون بنا لیا، اس پر ٹیک لگاتے تھے۔