السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما على الإمام من تعميم الدعاء باب: امام پر دعا کو (سب کے لیے) عام کرنا کتنا لازم ہے
حدیث نمبر: 5349
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ بِبَغْدَادَ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ أَصْبَغُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا مَنْصُورٌ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي حُيَيٍّ الْمُؤَذِّنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَوْ لِامْرِئٍ أَنْ يُصَلِّيَ وَهُوَ حَاقِنٌ حَتَّى يَتَخَفَّفَ، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مُسْلِمٍ أَنْ يَؤُمَّ قَوْمًا إِلَّا بِإِذْنِهِمْ، وَلَا يَخُصُّ نَفْسَهُ بِدَعْوَةٍ دُونَهُمْ، فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَهُمْ، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مُسْلِمٍ أَنْ يَنْظُرَ فِي قَعْرِ بَيْتٍ، فَإِنْ نَظَرَ فَقَدْ دَمَرَ أَوْ قَالَ: فَقَدْ دَخَلَ ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ ثَوْرٍ، وَقَوْلُهُ: " دَمَرَ " يَعْنِي دَخَلَ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ، وَالْوَجْهُ الثَّالِثُ مَا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی مرد کے لیے جائز نہیں کہ وہ پیشاب وغیرہ کو روک کر نماز پڑھے، بلکہ پہلے ان سے فارغ ہوجائے اور نہ ہی کسی کے لیے جائز ہے کہ بغیر اجازت کسی کی امامت کروائے اور نہ ہی اپنے آپ کو دعا کے لیے خاص کرے۔ اگر اس نے ایسا کیا تو ان سے خیانت کی اور نہ ہی کسی مرد کے لیے جائز ہے کہ وہ گھر کے کسی سوراخ سے دیکھے۔ اگر اس نے دیکھا تو گویا وہ گھر میں بغیر اجازت داخل ہوا۔“