السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كراهية الولاية جملة باب: مجموعی طور پر ولایت (امارت یا امامت کی ذمہ داری) کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 5345
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ أَمِيرِ عَشِيرَةٍ إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا حَتَّى يَفُكَّ عَنْهُ الْعَدْلُ أَوْ يُنْفِقَهُ الْجَوْرُ ". قَالَ: فَقَالَ بَعْضُهُمْ: " يُوبِقَهُ الْجَوْرُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں: ”جو دس آدمیوں پر امیر بنا قیامت کے دن اس طرح لایا جائے گا کہ بندھا ہوا ہوگا اور اس کا عدل اس کو رہائی دلوائے گا یا اس کا ظلم اس کو ہلاک کر دے گا۔“ اور بعض نے «يُوبِقُهُ الْجَوْرُ» ”ظلم اسے ہلاک کر دے گا“ کے الفاظ ذکر کیے ہیں (معنی ایک ہی ہے)۔