السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما جاء فيمن أم قوما وهم له كارهون باب: اس شخص کے متعلق جو مروی ہے جو لوگوں کی امامت کرائے درآں حالیکہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں
حدیث نمبر: 5340
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ رُءَوْسَهُمْ: رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، وَامْرَأَةٌ بَاتَتْ وَزَوْجُهَا سَاخِطٌ عَلَيْهَا، وَمَمْلُوكٌ فَرَّ مِنْ مَوْلَاهُ "..حافظ ثناء اللہ
حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں جن کی نمازیں ان کے سروں سے آگے نہیں گزرتیں: ایسا امام جس کو قوم ناپسند کرتی ہو اور ایسی عورت جو رات گزارتی ہے اور اس کا خاوند اس پر ناراض ہوتا ہے اور ایسا غلام جو اپنے آقا سے بھاگا ہوا ہے۔“