السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الاستنجاء بما يقوم مقام الحجارة في الإنقاء دون ما نهي عن الاستنجاء به باب: صفائی حاصل کرنے میں پتھر کے قائم مقام اشیاء سے استنجاء کرنے کا بیان ماسوائے ان چیزوں کے جن سے استنجاء کی ممانعت وارد ہے
حدیث نمبر: 534
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاودَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ الْمِصْرِيُّ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، أَنَّ شُيَيْمَ بْنَ بَيْتَانَ الْقِتْبَانِيَّ، أَخْبَرَهُ، عَنْ شَيْبَانَ الْقِتْبَانِيِّ، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: إِنْ كَانَ أَحَدُنَا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَأْخُذُ نِضْوَ أَخِيهِ عَلَى أَنَّ لَهُ النِّصْفَ مِمَّا يَغْنَمُ، وَلَنَا النِّصْفَ وَإِنْ كَانَ أَحَدُنَا لَيَطِيرُ لَهُ النَّصْلُ وَالرِّيشُ، وَلِلْآخَرِ الْقِدْحُ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ: " يَا رُوَيْفِعُ، لَعَلَّ الْحَيَاةَ سَتَطُولُ بِكَ بَعْدِي، فَأَخْبِرِ النَّاسَ أَنَّهُ مَنْ عَقَدَ لِحْيَتَهُ، أَوْ تَقَلَّدَ وَتَرًا، أَوِ اسْتَنْجَى بِرَجِيعِ دَابَّةٍ أَوْ عَظْمٍ فَإِنَّ مُحَمَّدًا مِنْهُ بَرِيءٌ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم میں سے کوئی نبی ﷺ کے زمانہ میں اپنے بھائی کو تیر پکڑاتا اس شرط پر کہ غنیمت میں سے اس کے لیے آدھا ہے، پھر مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے رویفع! شاید تمہاری زندگی میرے بعد لمبی ہو جائے، تو لوگوں کو بتا دینا کہ جس نے داڑھی کی گرہ لگائی یا تندی پہنی یا چوپائے کے گوبر یا ہڈی سے استنجا کیا تو محمد ﷺ اس سے بری ہیں۔“