السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: إمامة القوم لا سلطان فيهم وهم في بيت أحدهم باب: ایسے لوگوں کی امامت جن میں کوئی حکمران نہ ہو اور وہ ان میں سے کسی کے گھر میں ہوں
حدیث نمبر: 5323
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي أَسِيدٍ قَالَ: " زَارَنِي حُذَيْفَةُ، وَأَبُو ذَرٍّ، وَابْنُ مَسْعُودٍ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَأَرَادَ أَبُو ذَرٍّ أَنْ يَتَقَدَّمَ، فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ: رَبُّ الْبَيْتِ أَحَقُّ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: نَعَمْ يَا أَبَا ذَرٍّ ".حافظ ثناء اللہ
ابو سعید جو ابو اُسَید کے غلام ہیں فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ، ابوذر رضی اللہ عنہ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے تو نماز کا وقت ہو گیا، ابوذر رضی اللہ عنہ نے جماعت کروانے کا ارادہ کیا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”گھر کا مالک زیادہ حق رکھتا ہے“، تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی کہہ دیا: ”اے ابوذر! بات ایسے ہی ہے۔“