حدیث نمبر: 5322
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ خُرَّزَاذَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، ثنا الْمُسَيَّبُ بْنُ رَافِعٍ، وَمَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ، وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى الْكُوفَةِ قَالَ: أَتَيْنَا قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فِي بَيْتِهِ فَأُذِّنَ بِالصَّلَاةِ، فَقُلْنَا لِقَيْسٍ: قُمْ فَصَلِّ لَنَا، قَالَ: " إِنِّي لَمْ أَكُنْ لِأُصَلِّيَ بِقَوْمٍ لَمْ أَكُنْ عَلَيْهِمْ أَمِيرًا "، فَقَالَ رَجُلٌ: لَيْسَ بِدُونِهِ، يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ حَنْظَلَةَ الْغَسِيلِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الرَّجُلُ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِهِ، وَبِصَدْرِ فِرَاشِهِ، وَأَحَقُّ أَنْ يَؤُمَّ فِي رَحْلِهِ ". قَالَ قَيْسٌ عِنْدَ ذَلِكَ لِمَوْلًى لَهُ: قُمْ فَصَلِّ لَهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ

معبد بن خالد، عبداللہ بن یزید خطمی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ کوفہ کے امیر تھے۔ ہم قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے گھر آئے تو انہوں نے نماز کے لیے اذان دی، ہم نے قیس رضی اللہ عنہ سے کہا: جماعت کراؤ۔ انہوں نے کہا: میں ایسی قوم کو جماعت نہیں کراؤں گا جن کا میں امیر نہیں، تو دوسرے شخص یعنی عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اپنی سواری کے اگلے حصہ کا زیادہ حقدار ہے، اسی طرح اپنے گھر میں اپنے بستر کا، اور وہ زیادہ حق رکھتا ہے کہ اپنے گھر میں امامت کروائے۔“ تو قیس رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام سے کہا: کھڑے ہو جاؤ اور ان کو نماز پڑھاؤ۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5322
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ۔ الحاكم 2/73»