حدیث نمبر: 5305
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ الْمُنَادِي الْمَخْرَمِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا يُونُسُ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: " كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُسَلِّمُ عَلَى الْخَشَبِيَّةِ وَالْخَوَارِجِ وَهُمْ يَقْتَتِلُونَ، فَقَالَ: " مَنْ قَالَ: حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ أَجَبْتُهُ، وَمَنْ قَالَ: حِيَّ عَلَى الْفَلَاحِ أَجَبْتُهُ، وَمَنْ قَالَ: حِيَّ عَلَى قَتْلِ أَخِيكَ الْمُسْلِمِ وَأَخْذِ مَالِهِ، قُلْتُ: لَا ".
حافظ ثناء اللہ

نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خشبیہ اور خوارج کو سلام کہتے تھے اور وہ آپس میں لڑتے بھی تھے۔ فرماتے تھے: ”جو کہتا ہے نماز کی طرف آؤ، میں اس کی بات کو قبول کرتا ہوں اور جو کہتا ہے «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”کامیابی کی طرف آؤ“ میں اس کی بات بھی قبول کرتا ہوں اور جو کہے گا کہ اپنے مسلمان بھائی کو قتل کر یا اس کا مال لوٹنے کے لیے آؤ تو میں انکار کر دوں گا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5305
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ ابو نعيم في العلية 1/309»