السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الاستنجاء بما يقوم مقام الحجارة في الإنقاء دون ما نهي عن الاستنجاء به باب: صفائی حاصل کرنے میں پتھر کے قائم مقام اشیاء سے استنجاء کرنے کا بیان ماسوائے ان چیزوں کے جن سے استنجاء کی ممانعت وارد ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَا: ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: لَيْسَ أَبُو عُبَيْدَةَ ذَكَرَهُ، وَلَكِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ، يَقُولُ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلِمَ الْغَائِطَ، فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ. قَالَ: فَوَجَدْتُ حَجَرَيْنِ، وَالْتَمَسْتُ الثَّالِثَ، فَلَمْ أَجِدْهُ، فَأَخَذْتُ رَوْثَةً وَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ، وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ، وَقَالَ: " هَذَا رِكْسٌ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ قَدِ اخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ، فَرَوَاهُ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ هَكَذَا، وَاعْتَمَدَهُ الْبُخَارِيُّ وَوَضَعَهُ فِي الْجَامِعِ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَزَادَ فِي آخِرِهِ: " ايْتِنِي بِحَجَرٍ ". وَرَوَاهُ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَرَوَاهُ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي ⦗١٧٥⦘ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: حَدِيثُ إِسْرَائِيلَ عِنْدِي أَثْبَتُ وَأَصَحُّ لِأَنَّ إِسْرَائِيلَ أَثْبَتُ فِي أَبِي إِسْحَاقَ مِنْ هَؤُلَاءِ، وَتَابَعَهُ عَلَى ذَلِكَ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَقَالَ: وَزُهَيْرٌ فِي أَبِي إِسْحَاقَ لَيْسَ بِذَلِكَ لِأَنَّ سَمَاعَهُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ فِي آخِرِهِ، وَأَبُو إِسْحَاقَ فِي آخِرِ أَمْرِهِ كَانَ قَدْ سَاءَ حِفْظُهُ.سیدنا عبدالرحمن بن اسود رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی ﷺ قضائے حاجت کے لیے تشریف لائے تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے پاس تین پتھر لے کر آؤں، مجھے دو پتھر مل گئے اور تیسرے کو میں نے تلاش کیا تو وہ نہ ملا، پھر میں نے گوبر لیا اور اس کو نبی ﷺ کے پاس لے آیا، آپ ﷺ نے وہ دونوں پتھر لے لیے اور گوبر کو پھینک دیا اور فرمایا: ”«هَذَا رِكْسٌ» یہ پلید ہے۔“
امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے نزدیک اسرائیل کی روایت زیادہ ثابت اور زیادہ صحیح ہے، کیونکہ اسرائیل ابو اسحاق سے روایت کرنے میں ان سب سے زیادہ پختہ ہیں اور قیس بن ربیع نے اس پر ان کی متابعت کی ہے۔ اور فرمایا: زہیر ابو اسحاق سے روایت میں اتنے قوی نہیں، کیونکہ انہوں نے ابو اسحاق سے آخر میں سنا اور ابو اسحاق کا حافظہ آخری عمر میں خراب ہو گیا تھا۔