السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المأموم يصلي خارج المسجد بصلاة الإمام في المسجد وبينهما حائل باب: مقتدی کا مسجد کے باہر سے مسجد میں موجود امام کی اقتداء میں نماز پڑھنا جبکہ ان کے درمیان کوئی پردہ یا آڑ حائل ہو
حدیث نمبر: 5246
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: " قَدْ صَلَّى نِسْوَةٌ مَعَ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُجْرَتِهَا، فَقَالَتْ: " لَا تُصَلِّيَنَّ بِصَلَاةِ الْإِمَامِ؛ فَإِنَّكُنَّ دُونَهُ فِي حِجَابٍ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَكَمَا قَالَتْ عَائِشَةُ فِي حُجْرَتِهَا إِنْ كَانَتْ قَالَتْهُ قُلْنَاهُ.حافظ ثناء اللہ
ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورتوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ حجرے میں نماز پڑھی، انہوں نے فرمایا: ”تم امام کی اقتدا میں نماز نہ پڑھو، کیونکہ تمہارے اور اس کے درمیان پردہ ہے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے حجرے کے بارے میں جو فرمایا، اگر واقعی انہوں نے یہ فرمایا ہے تو ہم بھی یہی کہتے ہیں۔