السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: صلاة المأموم في المسجد أو على ظهره أو في رحبته بصلاة الإمام في المسجد وإن كان بينهما مقصورة أو أساطين أو غيرها شبيها بها باب: مقتدی کا مسجد کے اندر یا اس کی چھت پر یا اس کے صحن میں مسجد میں موجود امام کی اقتداء میں نماز پڑھنا اگرچہ ان کے درمیان کوئی حجرہ یا ستون یا ان جیسی کوئی اور چیز حائل ہو
حدیث نمبر: 5241
وَأَخْبَرَنَا بِحَدِيثِ أَنَسٍ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ، أنبأ ⦗١٥٧⦘ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي حُجْرَتِهِ فَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَصَلُّوا بِصَلَاتِهِ، فَخَفَّفَ فَدَخَلَ الْبَيْتَ ثُمَّ خَرَجَ فَفَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا، كُلَّ ذَلِكَ يُصَلِّي ثُمَّ يَنْصَرِفُ وَيَدْخُلُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، صَلَّيْنَا مَعَكَ الْبَارِحَةَ وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَمُدَّ فِي صَلَاتِكَ، فَقَالَ: " قَدْ عَلِمْتُ بِمَكَانِكُمْ، عَمْدًا فَعَلْتُ ذَلِكَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کی نماز اپنے حجرے میں ادا فرماتے۔ صحابہ میں سے کچھ لوگ آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھنے لگے، آپ ﷺ نے تخفیف کی اور گھر میں داخل ہو گئے۔ پھر نکلے تو آپ ﷺ نے کئی مرتبہ ایسے کیا کہ آپ ﷺ نماز پڑھتے اور چلے جاتے۔ جب صبح ہوئی تو لوگوں نے آپ ﷺ سے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے گزشتہ رات آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، ہم چاہتے ہیں کہ آپ ﷺ نماز لمبی کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہارے بیٹھنے کو جان گیا تھا، لیکن جان بوجھ کر میں نے ایسا کیا۔“