حدیث نمبر: 524
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ، عَنْ جَدِّهِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَتْبَعُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِدَاوَةٍ لِوُضُوئِهِ وَحَاجَتِهِ وَقَالَ: فَأَدْرَكَهُ يَوْمًا فَقَالَ: " مَنْ هَذَا؟ ". قَالَ: أَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: " ابْغِنِي أَحْجَارًا أَسْتَنْفِضْ بِهَا، وَلَا تَأْتِنِي بِعَظْمٍ، وَلَا رَوْثٍ ". فَأَتَيْتُهُ بِأَحْجَارٍ فِي ثَوْبِي، فَوَضَعْتُهَا إِلَى جَنْبِهِ حَتَّى إِذَا فَرَغَ وَقَامَ تَبِعْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا بَالُ الْعَظْمِ وَالرَّوْثِ؟ فَقَالَ: " أَتَانِي وَفْدُ نَصِيبِينَ فَسَأَلُونِي الزَّادَ، فَدَعَوْتُ اللهَ لَهُمْ أَنْ لَا يَمُرُّوا بِرَوْثَةٍ وَلَا بِعَظْمٍ إِلَّا وَجَدُوا عَلَيْهِ طَعَامًا ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی ﷺ کے وضو اور قضائے حاجت کے لیے پانی کا برتن آپ ﷺ کے پیچھے لے جاتے تھے، آپ ﷺ نے ان کو ایک دن پایا تو پوچھا: ”کون ہے؟“ انہوں نے کہا: میں ابوہریرہ ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے لیے پتھر تلاش کرو تاکہ میں استنجا کروں اور میرے پاس ہڈی اور گوبر نہ لانا۔“ میں اپنے کپڑوں میں دو پتھر لایا وہ میں نے آپ ﷺ کے پہلو میں رکھ دیے یہاں تک کہ آپ ﷺ فارغ ہو گئے اور کھڑے ہوئے اور میں آپ ﷺ کے پیچھے رہا۔
میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہڈی اور گوبر کا کیا معاملہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس نصیبین کا وفد آیا، انہوں نے مجھ سے زادِ راہ کا سوال کیا، میں نے ان کے لیے اللہ سے دعا کی کہ وہ جس گوبر اور ہڈی کے پاس سے گزریں اس پر کھانا پائیں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 524
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري 3647»