السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما جاء في مقام الإمام باب: امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کے متعلق جو کچھ مروی ہے
حدیث نمبر: 5232
وَاحْتَجَّ بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، أَنَّ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَمَّ النَّاسَ بِالْمَدَائِنِ عَلَى دُكَّانٍ، فَأَخَذَ أَبُو مَسْعُودٍ بِقَمِيصِهِ فَجَبَذَهُ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ، قَالَ: " أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يُنْهَوْنَ عَنْ ذَلِكَ، أَوْ قَالَ: أَوْ لَمْ تَعْلَمْ أَنَّهُ كَانَ يُنْهَى عَنْ ذَلِكَ؟ " قَالَ: " بَلَى، قَدْ ذَكَرْتُ حِينَ مَدَدْتَنِي ". وَرَوَاهُ زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَكَّائِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِمَعْنَى رِوَايَةِ يَعْلَى، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ لَهُ أَبُو مَسْعُودٍ: " أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَقُومَ الْإِمَامُ فَوْقَ، وَيَبْقَى النَّاسُ خَلْفَهُ "..حافظ ثناء اللہ
(الف) ہمام سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے مدائن میں لوگوں کی امامت ایک اونچی جگہ کروائی تو سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کی قمیص سے پکڑ کر کھینچا، جب وہ اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”کیا آپ نہیں جانتے کہ وہ اس سے منع کرتے تھے؟“ یا فرمایا: ”اس سے منع کیا گیا ہے۔“ فرمانے لگے: ”ہاں! مجھے یاد آ گیا جب آپ نے کھینچا تھا۔“
(ب) یعلیٰ کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا آپ جانتے نہیں کہ نبی ﷺ نے منع کیا تھا کہ امام بلند جگہ کھڑا ہو اور لوگ اس کے پیچھے۔“