حدیث نمبر: 522
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَوْلًى لِأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَأَظُنُّهُ قَالَ أَبُو وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَضِّئْنِي ". فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوءٍ، فَاسْتَنْجَى بِمَاءٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التُّرَابِ فَمَسَحَهَا بِهِ، ثُمَّ غَسَلَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقُلْتُ: إِنَّكَ تَوَضَّأْتَ وَلَمْ تَغْسِلْ رِجْلَيْكَ؟ قَالَ: " إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ ".
حافظ ثناء اللہ

ابووہب کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے وضو کراؤ“، میں آپ ﷺ کے پاس پانی لے کر آیا، آپ ﷺ نے استنجا کیا، پھر اپنا ہاتھ مٹی میں داخل کیا اور اس کو ملا، پھر آپ ﷺ نے اس ہاتھ کو دھویا اور وضو کیا، موزوں پر مسح بھی کیا، میں نے کہا کہ آپ نے وضو کیا اور پاؤں نہیں دھوئے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے ان کو وضو کر کے پہنا تھا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 522
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيرهٖ
تخریج حدیث «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه احمد 2/358»