حدیث نمبر: 5201
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ لِي أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ: كِلَاهُمَا صَحِيحَانِ. قَالَ الشَّيْخُ: يُرِيدُ كِلَا الْإِسْنَادَيْنِ، فَأَمَّا الْمَتْنُ فَإِنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ هِشَامٍ يَنْفَرِدُ بِالْمَتْنِ الْأَوَّلِ فَلَا أُرَاهُ مَحْفُوظًا، فَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ نَحْوَ رِوَايَةِ الْجَمَاعَةِ فِي الْمَتْنِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس دو آدمیوں کو چھینک آئی، آپ ﷺ نے ان میں سے ایک کی چھینک کا جواب دیا اور دوسرے کا نہیں دیا، تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس کا جواب دیا اور میرا جواب نہیں دیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے اللہ کی حمد بیان کی تھی اور تم نے اللہ کی حمد بیان نہیں کی تھی۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5201