أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بَصِيرٍ، عَنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَلَمَّا سَلَّمَ نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ فَقَالَ: " أَشَاهِدٌ فُلَانٌ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، فَقَالَ: " أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ صَلَاةٍ أَثْقَلُ عَلَى الْمُنَافِقِينَ مِنْ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ، يَعْنِي الصُّبْحَ وَصَلَاةَ الْعِشَاءِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَإِنَّ الصَّفَّ الْأَوَّلَ عَلَى مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِكَةِ، وَلَوْ تَعْلَمُونَ مَا فِيهِ لَابْتَدَرْتُمُوهُ، وَإِنَّ صَلَاةَ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ وَحْدَهُ، وَصَلَاتَهُ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ مَعَ رَجُلٍ، وَمَا كَانَ أَكْثَرَ كَانَ أَحَبَّ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ".سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، جب سلام پھیرا تو قوم کے چہروں کو دیکھا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا فلاں حاضر ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”صبح اور عشاء کی نماز منافقین پر بہت بھاری ہے۔ اگر وہ جان لیں جو ان میں اجر و ثواب ہے تو اگر ان کو گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑے تو ضرور آئیں اور پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہے، اگر تم جان لو کہ اس میں کیا ثواب ہے تو تم ضرور جلدی کرو اور آدمی کا دوسرے کے ساتھ مل کر نماز پڑھنا اکیلے کی نماز سے افضل ہے اور دو آدمیوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھنا یہ بہتر ہے ایک آدمی کے ساتھ مل کر نماز پڑھنے سے اور جتنے زیادہ ہوں وہ اللہ کو زیادہ محبوب ہے۔“