السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: إقامة الصفوف وتسويتها باب: صفوں کو قائم کرنے اور انہیں سیدھا رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 5183
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ الْجَدَلِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ فَقَالَ: " أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، ثَلَاثًا، وَاللهِ لَتُقِيمُنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللهُ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ ". قَالَ: فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يُلْزِقُ مَنْكِبَهُ بِمَنْكِبِ صَاحِبِهِ، وَرُكْبَتَهُ بِرُكْبَةِ صَاحِبِهِ، وَكَعْبَهُ بِكَعْبِهِ ".حافظ ثناء اللہ
قاسم جدلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی ﷺ اپنے رخِ انور کے ساتھ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنی صفوں کو سیدھا کرو۔“ (تین بار فرمایا)۔ ”اللہ کی قسم! تم اپنی صفوں کو ضرور سیدھا کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا کر دے گا۔“ فرماتے ہیں: میں نے دیکھا ہر شخص اپنا کندھا اپنے ساتھی کے کندھے سے ملائے ہوئے تھا اور اپنا ٹخنہ اپنے ساتھی کے ٹخنے سے اور اپنی پنڈلی اپنے ساتھی کی پنڈلی سے۔