السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من كره أن يفتتح الرجل الصلاة لنفسه ثم يدخل مع الإمام باب: اس شخص کا بیان جس نے مکروہ جانا کہ آدمی اپنی اکیلے نماز شروع کرے اور پھر امام کے ساتھ شامل ہو جائے۔
حدیث نمبر: 5147
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ إِذَا جَاءَ يُصَلِّي فَيُخْبَرُ بِمَا سُبِقَ مِنْ صَلَاتِهِ، وَإِنَّهُمْ قَامُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِ قَائِمٍ وَرَاكِعٍ وَقَاعِدٍ وَمُصَلٍّ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَجَاءَ مُعَاذٌ، فَأَشَارُوا إِلَيْهِ، قَالَ شُعْبَةُ: وَهَذِهِ سَمِعْتُهَا مِنْ حُصَيْنٍ يَعْنِي عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: فَقَالَ مُعَاذٌ: لَا أَرَاهُ عَلَى حَالٍ إِلَّا كُنْتُ عَلَيْهَا، قَالَ: فَقَالَ: " إِنَّ مُعَاذًا قَدْ سَنَّ لَكُمْ سُنَّةً، كَذَلِكَ فَافْعَلُوا "..حافظ ثناء اللہ
ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں ہمارے ساتھیوں نے بیان کیا کہ آدمی جب نماز کے لیے آتا ہے تو اس کو بتایا جاتا کہ اتنی نماز گزر چکی ہے، وہ نبی ﷺ کے ساتھ قیام، رکوع، بیٹھتے اور نماز پڑھتے تھے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے اس کا اشارہ کیا۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے حصین یعنی ابن ابی لیلیٰ سے سنا کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس حالت پر میں نبی ﷺ کو دیکھتا اسی حالت میں نماز میں شامل ہوجاتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”معاذ (رضی اللہ عنہ) نے تمہارے لیے طریقہ بنایا ہے تم بھی ایسے ہی کیا کرو۔“