السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من كره أن يفتتح الرجل الصلاة لنفسه ثم يدخل مع الإمام باب: اس شخص کا بیان جس نے مکروہ جانا کہ آدمی اپنی اکیلے نماز شروع کرے اور پھر امام کے ساتھ شامل ہو جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَعْرُوفُ بِأَبِي شَيْخٍ، أنبأ الْمَرْوَزِيُّ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذٍ قَالَ: كَانُوا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ وَقَدْ سَبَقَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ الصَّلَاةِ فَيُشِيرُونَ إِلَيْهِمْ كَمْ صَلَّى بِالْأَصَابِعِ وَاحِدَةً، ثِنْتَيْنِ، فَجَاءَ مُعَاذٌ وَقَدْ سَبَقَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ الصَّلَاةِ فَدَخَلَ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: لَا أَجِدُهُ عَلَى حَالٍ إِلَّا كُنْتُ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَضَيْتُ فَجَاءَ وَقَدْ سَبَقَهُ بِبَعْضِ الصَّلَاةِ، فَدَخَلَ فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَامَ مُعَاذٌ يَقْضِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ سَنَّ لَكُمْ مُعَاذٌ، هَكَذَا فَافْعَلُوا ".عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ، معاذ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز کے لیے آتے اور نبی ﷺ بعض نماز پڑھ چکے ہوتے تو وہ نمازیوں کی طرف ایک یا دو انگلیوں کے ساتھ اشارہ کر کے پوچھتے۔ معاذ رضی اللہ عنہ آئے تو نبی ﷺ نے کچھ نماز پڑھ لی تھی، وہ بھی نماز میں شامل ہو گئے، فرماتے ہیں کہ جس حالت میں میں نے نبی ﷺ کو پایا تھا، اسی حالت میں میں بھی شامل ہو گیا۔ پھر میں نے نماز پوری کی۔ پھر ایک دن آئے تو کچھ نماز گزر چکی تھی، وہ نماز میں شامل ہوئے، جب نبی ﷺ نے نماز پوری کی تو معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پوری کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”معاذ نے تمہارے لیے طریقہ مقرر کر دیا ہے، تم بھی ایسے ہی کر لیا کرو۔“