حدیث نمبر: 5139
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا مِسْعَرُ بْنُ حَبِيبٍ الْجَرْمِيُّ وَكَانَ شَيْخًا كَيِّسًا حِيَّ الْفُؤَادِ، حَدَّثَنَاهُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: " قَدِمَ قَوْمِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا قَرَءُوا الْقُرْآنَ، فَلَمَّا قَضَوْا حَوَائِجَهُمْ فَسَأَلُوهُ: مَنْ يَؤُمُّهُمْ؟ فَقَالَ: " أَكْثَرُكُمْ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ، أَوْ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ ". قَالَ: فَرَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ فَسَأَلُوهُمْ فَلَمْ يَجِدُوا أَحَدًا أَجْمَعَ أَوْ آخِذًا لِلْقُرْآنِ مِنِّي، قَالَ: فَقَدَّمُونِي وَأَنَا غُلَامٌ، وَكُنْتُ أُصَلِّي لَهُمْ أَوْ أُصَلِّي بِهِمْ، قَالَ: فَمَا شَهِدْتُ مَجْمَعًا إِلَّا كُنْتُ إِمَامَهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری قوم نبی ﷺ کے پاس آئی، جب انہوں نے قرآن پڑھ لیا اور اپنی ضروریات کو پورا کر لیا تو انہوں نے سوال کیا کہ ان کی امامت کون کروائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو قرآن زیادہ یاد کیے ہوئے ہو۔“ جب وہ واپس قوم میں آئے تو انہوں نے اس کے بارے میں سوال کیا، لیکن مجھ سے زیادہ قرآن کسی کو بھی یاد نہیں تھا، انہوں نے مجھے آگے کر دیا اور میں بچہ تھا، میں ان کو نماز پڑھاتا، جب بھی کوئی مجلس ہوتی تو میں ان کا امام ہوتا تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5139
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ معني في الذي قبله»