السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الاستنجاء بالماء باب: پانی سے استنجاء کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا} [التوبة: ١٠٨] قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ فَقَالَ: " مَا هَذَا الطُّهُورُ الَّذِي أَثْنَى الله عَلَيْكُمْ بِهِ ". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا خَرَجَ مِنَّا رَجُلٌ وَلَا امْرَأَةٌ مِنَ الْغَائِطِ إِلَّا غَسَلَ دُبُرَهُ أَوْ قَالَ: مَقْعَدَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَفِي هَذَا ". وَرُوِيِّنَا عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ أَنَّهُ كَانَ يَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ إِذَا بَالَ، وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ، عَنْهَا: مِنَ السُّنَّةِ غَسْلُ الْمَرْأَةِ قُبُلَهَا.(الف) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب یہ آیت ﴿فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا﴾ [سورة التوبة: 108] نازل ہوئی تو نبی ﷺ نے عویم بن ساعدہ کی طرف پیغام بھیجا اور پوچھا: ”یہ کون سی طہارت ہے جس پر اللہ نے تمہارے لیے تعریف کی ہے؟“ انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے جو مرد یا عورت قضائے حاجت کو نکلتی ہے تو وہ اپنی شرم گاہ کو پانی سے دھوتے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اسی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔“
(ب) سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ پیشاب کرتے تو پانی سے استنجا کرتے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عورت کا اپنی اگلی شرمگاہ کو دھونا سنت ہے۔