حدیث نمبر: 5100
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ أَوِ الْعَتَمَةَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّيهَا لِقَوْمِهِ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ، قَالَ فَأَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَصَلَّى مُعَاذٌ مَعَهُ ثُمَّ رَجَعَ فَأَمَّ قَوْمَهُ فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَتَنَحَّى رَجُلٌ مِنْ خَلْفِهِ فَصَلَّى وَحْدَهُ، فَقَالُوا لَهُ: أَنَافَقْتَ؟ فَقَالَ: لَا، وَلَكِنِّي آتِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ أَخَّرْتَ الْعِشَاءَ، وَإِنَّ مُعَاذًا صَلَّى مَعَكَ ثُمَّ رَجَعَ فَأَمَّنَا فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ ⦗١٢١⦘ تَأَخَّرْتُ وَصَلَّيْتُ، وَإِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ نَعْمَلُ بِأَيْدِينَا، فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُعَاذٍ فَقَالَ: " أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ؟ أَفَتَّانٌ أَنْتَ؟ اقْرَأْ بِسُورَةِ كَذَا، وَسُورَةِ كَذَا "..
حافظ ثناء اللہ

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے ساتھ عشا کی نماز پڑھتے، پھر بنو سلمہ کو جا کر عشا کی نماز پڑھاتے۔ راوی کہتے ہیں: ایک دن نبی ﷺ نے عشا کی نماز مؤخر کر دی، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر انہوں نے واپس آ کر اپنی قوم کی امامت کروائی اور اس میں سورہ بقرہ پڑھی۔ ایک شخص نے الگ ہو کر نماز پڑھ لی۔ انہوں نے کہا: کیا تو منافق ہو گیا ہے؟ کہنے لگا: نہیں، میں نبی ﷺ کے پاس جاؤں گا اور جا کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے نماز میں تاخیر کی اور معاذ رضی اللہ عنہ نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر واپس آ کر ہماری امامت کروائی اور انہوں نے سورہ بقرہ شروع کر دی، جب میں نے دیکھا تو پیچھے ہٹ گیا اور الگ نماز پڑھ لی، ہم تو پانی بھرنے والے ہیں، اپنے ہاتھوں سے کام کرتے ہیں۔ نبی ﷺ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے معاذ! کیا تو فتنہ باز ہے؟ اے معاذ! کیا تو فتنہ باز ہے! فلاں فلاں سورت پڑھا کرو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5100
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 669»