السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما على الآباء والأمهات من تعليم الصبيان أمر الطهارة والصلاة باب: والدین پر بچوں کو طہارت اور نماز سکھانے کی ذمہ داری کا بیان۔
حدیث نمبر: 5098
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُثْمَانُ الْحَاطِبِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ لِرَجُلٍ: " أَدِّبِ ابْنَكَ، فَإِنَّكَ مَسْئُولٌ عَنْ وَلَدِكَ، مَاذَا أَدَّبْتَهُ؟ وَمَاذَا عَلَّمْتَهُ؟ وَأَنَّهُ مَسْئُولٌ عَنْ بِرِّكَ وَطَوَاعِيَتِهِ لَكَ ".حافظ ثناء اللہ
عثمان حاطبی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ ایک شخص سے کہہ رہے تھے: اپنے بیٹے کو ادب سکھا، کیونکہ تجھ سے اپنی اولاد کے ادب کے بارے میں سوال ہو گا اور تو نے اس کو کیا تعلیم دی ہے، کیونکہ اس سے نیکی اور اطاعت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔