السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما روي في صلاة المأموم قائما، وإن صلى الإمام جالسا، وما يستدل به على نسخ ما تقدم من الأخبار باب: مقتدیوں کے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی روایات کا بیان اگرچہ امام بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہو، اور اس دلیل کا بیان جس سے سابقہ احادیث کا منسوخ ہونا ثابت ہوتا ہے۔
وَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَاكِهِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِ رِوَايَةِ الطَّرَسُوسِيِّ، عَنْ شَبَابَةَ، وَرُوِّينَا، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَوْ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ مَرَّةً لَمْ يَمْنَعْ ذَلِكَ أَنْ يَكُونَ صَلَّى خَلْفَهُ أَبُو بَكْرٍ أُخْرَى. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ ذَهَبَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ فِي مَغَازِيهِ إِلَى أَنَّ أَبَا بَكْرٍ صَلَّى مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ رَكْعَةً، وَهُوَ الْيَوْمُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ فَصَلَّى مَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَةً، فَلَمَّا سَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ قَامَ فَصَلَّى الرَّكْعَةَ الْأُخْرَى. فَيُحْتَمَلُ أَنْ تَكُونَ هَذِهِ الصَّلَاةُ مُرَادَ مَنْ رَوَى أَنَّهُ صَلَّى خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فِي مَرَضِهِ، فَأَمَّا الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّاهَا أَبُو بَكْرٍ خَلْفَهُ فِي مَرَضِهِ فَهِيَ صَلَاةُ الظُّهْرِ يَوْمَ الْأَحَدِ أَوْ يَوْمَ السَّبْتِ كَمَا رُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ فِي بَيَانِ الظُّهْرِ، فَلَا تَكُونُ بَيْنَهُمَا مُنَافَاةٌ. وَيَصِحُّ الِاحْتِجَاجُ بِالْخَبَرِ الْأَوَّلِ.(الف) سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک مرتبہ نبی ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو دوسری مرتبہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی آپ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی، اس سے کوئی چیز مانع نہیں ہے۔
نوٹ: موسیٰ بن عقبہ مغازی میں ذکر فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سوموار کے دن صبح کی نماز کی ایک رکعت پڑھائی، یہی وہ دن ہے جس میں نبی ﷺ فوت ہوئے۔ نبی ﷺ نے کچھ افاقہ محسوس کیا، تو آپ ﷺ نے آ کر ایک رکعت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ پڑھی۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر دوسری رکعت مکمل کی۔ ممکن ہے اس سے مراد وہ نماز ہو جو نبی ﷺ نے اپنی بیماری کی حالت میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے پڑھی اور وہ نماز جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیماری کے ایام میں پڑھائی وہ ظہر کی نماز ہو اور یہ معاملہ اتوار یا ہفتہ کے دن ہوا تھا جیسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔