حدیث نمبر: 5079
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ ⦗١١٦⦘ بِالصَّلَاةِ، فَقَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ". قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ، وَإِنَّهُ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لَا يُسْمِعِ النَّاسَ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ قَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " قَالَتْ: فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ: قُولِي لَهُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ، وَإنَّهُ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لَا يُسْمِعِ النَّاسَ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ. فَقَالَتْ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ". قَالَ: فَأَمَرُوا أَبَا بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ قَالَتْ: فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً، قَالَتْ: فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ، قَالَتْ: فَلَمَّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَسَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُمْ مَكَانَكَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ جَالِسًا وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمًا، يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَقْتَدِي النَّاسُ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ ". لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ قُتَيْبَةَ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ..
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی طبیعت خراب ہوئی تو بلال رضی اللہ عنہ آئے اور وہ نبی ﷺ کو نماز کی اطلاع دے رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابوبکر رضی اللہ عنہ کمزور دل ہیں، جب وہ آپ ﷺ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو اپنی آواز لوگوں کو نہیں سنا سکیں گے، اگر آپ عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ میں نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ نبی ﷺ سے یہ بات کہہ دو کہ ابوبکر نرم دل ہے، جب آپ ﷺ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو اپنی آواز لوگوں کو نہیں سنا سکیں گے، اگر آپ عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں۔ انہوں نے نبی ﷺ سے یہ بات کہہ دی تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم بھی یوسف کی عورتوں کی طرح ہو، ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔“ انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا۔ انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کی تو نبی ﷺ نے کچھ راحت محسوس کی اور آپ ﷺ دو آدمیوں کے سہارے کھڑے ہوئے، آپ ﷺ کے پاؤں زمین پر لگنے کی وجہ سے لکیر بنا رہے تھے۔ جب آپ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کے آنے کو محسوس کیا تو آپ رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے، آپ ﷺ نے اشارہ کیا کہ ”اپنی جگہ پر ٹھہرو۔“ پھر نبی ﷺ، ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بائیں جانب بیٹھ گئے۔ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے لوگوں کو بیٹھ کر نماز پڑھائی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5079
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 681»