السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أن أكل ذلك غير حرام باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ ان چیزوں کا کھانا حرام نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 5059
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، أَنَّ أَبَا النَّجِيبِ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ: أَنَّهُ ذَكَرَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثُّومَ وَالْبَصَلَ وَالْكُرَّاثَ، وَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَأَشَدُّ ذَلِكَ كُلِّهِ الثُّومُ، أَفَنُحَرِّمُهُ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُوهُ، مَنْ أَكَلَهُ فَلَا يَقْرَبْ هَذَا الْمَسْجِدَ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ رِيحُهُ مِنْهُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لہسن، پیاز اور گندنے کا ذکر کیا گیا، عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو ان میں سب سے زیادہ ناپسند لہسن ہے، کیا آپ ﷺ اس کو حرام قرار دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، تم کھاؤ، لیکن جو کھا لے وہ اس مسجد کے قریب نہ آئے جب تک اس کی بو ختم نہ ہو۔“