حدیث نمبر: 5058
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ مِنْ طَعَامٍ بَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِقَصْعَةٍ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهَا فِيهَا ثُومٌ، فَأَتَاهُ أَبُو أَيُّوبَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَحَرَامٌ هُوَ؟ قَالَ: " لَا، وَلَكِنِّي كَرِهْتُهُ لِرِيحِهِ ". قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا كَرِهْتَ ".
حافظ ثناء اللہ

جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کھانا کھاتے اور بچا ہوا کھانا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیتے۔ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ایک کھانے کا پیالہ دیا اور آپ ﷺ نے اس میں سے کچھ بھی نہیں کھایا، کیونکہ اس میں لہسن تھا۔ ابو ایوب رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ حرام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”حرام نہیں، لیکن میں اس کو بو کی وجہ سے ناپسند کرتا ہوں۔“ ابو ایوب رضی اللہ عنہ کہنے لگے: پھر میں بھی ناپسند کرتا ہوں جس کو آپ ﷺ ناپسند کرتے ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5058
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 2053»