السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما جاء في فضل المشي إلى المسجد للصلاة باب: نماز کے لیے مسجد کی طرف پیدل چل کر جانے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4974
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا تَطَهَّرَ الرَّجُلُ ثُمَّ مَرَّ إِلَى الْمَسْجِدِ يَرْعَى الصَّلَاةَ كَتَبَ لَهُ كَاتِبَاهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا إِلَى الْمَسْجِدِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَالْقَاعِدُ يَرْعَى الصَّلَاةَ كَالْقَانِتِ وَيُكْتَبُ مِنَ الْمُصَلِّينَ مِنْ حِينَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى يَرْجِعَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”جب بندہ وضو کر کے مسجد کی طرف چلتا ہے اور نماز کا خیال رکھتا ہے، تو اس کے لیے ایک لکھنے والا یا دو لکھنے والے، ایک قدم کے عوض جو وہ مسجد کی طرف اٹھاتا ہے، دس نیکیاں لکھ دیتے ہیں اور نماز کے انتظار میں بیٹھنے والا ایسے ہے جیسے قیام کرنے والا، اور اس کو نمازیوں میں سے لکھ دیا جائے گا جس وقت سے وہ اپنے گھر سے نکلا اور واپس پلٹنے تک۔“