السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما جاء في فضل المشي إلى المسجد للصلاة باب: نماز کے لیے مسجد کی طرف پیدل چل کر جانے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4973
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ، عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهِّرًا إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ فَأَجْرُهُ كَأَجْرِ الْحَاجِّ الْمُحْرِمِ، وَمَنْ خَرَجَ إِلَى تَسْبِيحِ الضُّحَى لَا يَنْصِبُهُ إِلَّا إِيَّاهُ فَأَجْرُهُ كَأَجْرِ الْمُعْتَمِرِ، وَصَلَاةٌ عَلَى أَثَرِ صَلَاةٍ لَا لَغْوَ بَيْنَهُمَا كِتَابٌ فِي عِلِّيِّينَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو بندہ فرض نماز کے لیے گھر سے وضو کر کے جاتا ہے تو اس کا اجر ایسے ہے جیسے احرام باندھ کر حج کرنے والے کا اجر اور جو بندہ چاشت کی نماز کے لیے نکلتا ہے تو اس کا اجر ایسے ہے جیسے عمرہ کرنے والے کا اجر ہوتا ہے۔ ایک نماز کے بعد دوسری نماز جن کے درمیان فضول بات نہ ہو علیین میں لکھ دی جاتی ہے۔“