السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الاختيار في وقت الوتر وما ورد من الاحتياط في ذلك باب: وتر کے وقت میں اختیار اور اس سلسلے میں مروی احتیاط کا بیان۔
حدیث نمبر: 4841
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَتَى تُوتِرُ؟ " قَالَ: أُوتِرُ ثُمَّ أَنَامُ، قَالَ: " بِالْحَزْمِ أَخَذْتَ "، وَسَأَلَ عُمَرَ فَقَالَ: " مَتَى تُوتِرُ؟ " قَالَ: أَنَامُ ثُمَّ أَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ فَأُوتِرُ، قَالَ: " فِعْلُ الْقَوِيِّ فَعَلْتَ ".حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”کب وتر پڑھتے ہو؟“ انہوں نے کہا: وتر پڑھ کر سو جاتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے احتیاط کو اختیار کیا ہے“ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: ”تم کب وتر پڑھتے ہو؟“ تو انہوں نے کہا: میں سونے کے بعد کھڑا ہوتا ہوں، پھر وتر پڑھتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مضبوط لوگوں والا آپ نے کام کیا ہے۔“