السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الاختيار في وقت الوتر وما ورد من الاحتياط في ذلك باب: وتر کے وقت میں اختیار اور اس سلسلے میں مروی احتیاط کا بیان۔
حدیث نمبر: 4839
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ⦗٥٢⦘ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَتَى تُوتِرُ؟ " قَالَ: أُوتِرُ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ، وَقَالَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَتَى تُوتِرُ؟ " قَالَ: أَنَامُ ثُمَّ أُوتِرُ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَخَذْتَ بِالْحَزْمِ أَوْ بِالْوَثِيقَةِ "، وَقَالَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَخَذْتَ بِالْقُوَّةِ "..حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن رباح رحمہ اللہ، سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کب وتر پڑھتے ہو؟“ کہنے لگے: سونے سے پہلے وتر پڑھ لیتا ہوں، آپ ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”آپ کب وتر پڑھتے ہیں؟“ کہنے لگے: میں سونے کے بعد اٹھ کر وتر پڑھتا ہوں۔ آپ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تو نے احتیاط کو اختیار کیا ہے“ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”آپ نے عزیمت کو اختیار کیا ہے۔“