السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من أوتر بتسع أو بسبع يجلس في الأخريين منهن ويسلم في آخرهن باب: جس نے نو یا سات وتر پڑھے، وہ ان کی آخری دو رکعتوں میں بیٹھے اور ان کے آخر میں سلام پھیرے۔
حدیث نمبر: 4811
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو قُدَامَةَ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوٍ مِنْ مَعْنَاهُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: " فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَمَلَ اللَّحْمَ صَلَّى سَبْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي السَّادِسَةِ فَيَحْمَدُ اللهَ وَيَدْعُو رَبَّهُ، ثُمَّ يَقُومُ وَلَا يُسَلِّمُ، ثُمَّ يَجْلِسُ فِي السَّابِعَةِ فَيَحْمَدُ اللهَ وَيَدْعُو رَبَّهُ ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ ". وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی ﷺ کی عمر بڑھ گئی اور جسم بھاری ہو گیا تو آپ ﷺ سات رکعات پڑھتے اور چھٹی رکعت میں تشہد کرتے اور اللہ کی حمد و ثنا کرتے، اللہ سے دعا کرتے، پھر کھڑے ہو جاتے، لیکن سلام نہ پھیرتے تھے۔ پھر ساتویں رکعت میں بیٹھ جاتے۔ اللہ کی حمد کرتے، اللہ سے دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جو ہمیں سنوا دیا کرتے تھے، پھر بیٹھ کر دو رکعات پڑھتے، اے بیٹے! یہ نو رکعات تھیں۔