السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من أوتر بخمس أو ثلاث لا يجلس ولا يسلم إلا في الآخرة منهن باب: جس نے پانچ یا تین وتر پڑھے، وہ ان کے آخر ہی میں بیٹھے اور سلام پھیرے۔
حدیث نمبر: 4809
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا: ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ " أَنَّهُ كَانَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ لَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ، وَلَا يَتَشَهَّدُ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ.حافظ ثناء اللہ
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ، عطا رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ تین وتر پڑھتے تھے اور درمیان میں نہ بیٹھتے تھے اور تشہد بھی آخری رکعت میں پڑھتے تھے۔