السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من أوتر بخمس أو ثلاث لا يجلس ولا يسلم إلا في الآخرة منهن باب: جس نے پانچ یا تین وتر پڑھے، وہ ان کے آخر ہی میں بیٹھے اور سلام پھیرے۔
حدیث نمبر: 4801
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَرْقُدُ، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ تَسَوَّكَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ يَجْلِسُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَيُسَلِّمُ، ثُمَّ يُوتِرُ بِخَمْسِ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي الْخَامِسَةِ، وَلَا يُسَلِّمُ إِلَّا فِي الْخَامِسَةِ ". وَهَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ هِشَامٍ، وَتَابَعَهُ عَلَى هَذِهِ الرِّوَايَةِ عَنْ عُرْوَةَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " سِتُّ رَكَعَاتٍ مَثْنَى مَثْنَى ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ سو جاتے، جب بیدار ہوتے تو مسواک کرتے اور وضو فرماتے، پھر آٹھ رکعات نماز پڑھتے تو ہر دو رکعات میں بیٹھتے تھے اور سلام پھیرتے، پھر پانچ رکعات پڑھتے۔ صرف پانچویں رکعت میں بیٹھتے اور سلام بھی صرف پانچویں رکعت میں پھیرتے۔
(ب) محمد بن جعفر بن زبیر کی روایت میں یہ لفظ ہیں کہ آپ ﷺ چھ رکعات دو دو کر کے پڑھتے۔