السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من أوتر بخمس أو ثلاث لا يجلس ولا يسلم إلا في الآخرة منهن باب: جس نے پانچ یا تین وتر پڑھے، وہ ان کے آخر ہی میں بیٹھے اور سلام پھیرے۔
حدیث نمبر: 4799
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ صَلَاتُهُ مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ بِخَمْسٍ وَلَا يُسَلِّمُ فِي شَيْءٍ مِنَ الْخَمْسِ حَتَّى يَجْلِسَ فِي الْآخِرَةِ، ثُمَّ يُسَلِّمَ ".حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ کی نماز رات کو تیرہ رکعات ہوتی تھی۔ آپ ﷺ پانچ وتر پڑھتے اور ان میں سلام نہ پھیرتے، پھر آخری رکعت میں بیٹھتے اور سلام پھیرتے۔