السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الوتر بركعة واحدة ومن أجاز أن يصلي ركعة واحدة تطوعا باب: ایک رکعت وتر پڑھنے اور اس شخص کا بیان جس نے ایک رکعت نفل پڑھنے کی اجازت دی۔
حدیث نمبر: 4793
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْإِسْفَرَايِينِيُّ ثنا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ قَالَ: " رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ صَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ أَوْتَرَ بِرَكْعَةٍ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: " أَصَابَ ".حافظ ثناء اللہ
کریب فرماتے ہیں: میں نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے عشاء کی نماز پڑھی، پھر ایک رکعت وتر پڑھا۔ میں نے اس بات کا تذکرہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس کیا تو وہ فرمانے لگے: انہوں نے درست کیا۔