السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الوتر بركعة واحدة ومن أجاز أن يصلي ركعة واحدة تطوعا باب: ایک رکعت وتر پڑھنے اور اس شخص کا بیان جس نے ایک رکعت نفل پڑھنے کی اجازت دی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: " الْوِتْرُ حَقٌّ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلَاثٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَلْيُومِئْ إِيمَاءً ". وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ مَوْقُوفًا عَلَى أَبِي أَيُّوبَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ مَوْقُوفًا عَلَى أَبِي أَيُّوبَ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرَوَيْهِ، ⦗٣٦⦘ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى يَقُولُ هَذَا الْحَدِيثَ بِرِوَايَةِ يُونُسَ، وَالزُّبَيْدِيِّ، وَابْنِ عُيَيْنَةَ، وَشُعَيْبٍ، وَابْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، وَعَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ أَشْبَهُ أَنْ يَكُونَ غَيْرَ مَرْفُوعٍ، وَإِنَّهُ لَيَتَخَالَجُ فِي النَّفْسِ مِنْ رِوَايَةِ الْبَاقِينَ مَعَ رِوَايَةِ وُهَيْبٍ عَنْ مَعْمَرٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمُ التَّطَوُّعَ أَوِ الْوِتْرَ بِرَكْعَةٍ وَاحِدَةٍ مَفْصُولَةٍ عَمَّا قَبْلَهَا مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وتر حق ہے، جو پانچ وتر پڑھنا پسند کرے وہ ایسا کرے اور جو تین وتر پڑھنا پسند کرے وہ ایسا کرلے اور جو ایک وتر پڑھنا پسند کرے تو وہ ایسا کرلے، جو اس کی بھی طاقت نہ رکھے تو وہ اشارہ سے پڑھ لے۔“
(ب) صحابہ کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ نفل نماز یا وتر الگ ایک رکعت ادا کرنی چاہیے، انہی میں سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔
حماد بن زید اور عبدالرزاق نے اسے معمر سے ابو ایوب رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کیا ہے، اور اسی طرح ایک جماعت نے اسے زہری سے ابو ایوب رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کیا ہے۔ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں: یونس، زبیدی، ابن عیینہ، شعیب، ابن ابی اسحاق اور عبدالرزاق عن معمر کی روایت کے مطابق یہ حدیث زیادہ مناسب یہی ہے کہ مرفوع نہ ہو، اور باقی راویوں کی روایت اور وہیب عن معمر کی روایت کے بارے میں دل میں تردد ہے۔ واللہ اعلم۔