السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الوتر بركعة واحدة ومن أجاز أن يصلي ركعة واحدة تطوعا باب: ایک رکعت وتر پڑھنے اور اس شخص کا بیان جس نے ایک رکعت نفل پڑھنے کی اجازت دی۔
حدیث نمبر: 4771
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ بِلَالٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْوِتْرِ، وَأَنَا بَيْنَهُمَا فَقَالَ: " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى، فَإِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَأَوْتِرْ بِرَكْعَةٍ، ثُمَّ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ " يُرِيدُ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ. قَالَ عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ: وَقَالَ لَاحِقُ بْنُ حُمَيْدٍ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " بَادِرِ الصُّبْحَ بِرَكْعَةٍ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک شخص آیا اور اس نے نبی ﷺ سے وتر کے بارے میں سوال کیا اور میں ان کے درمیان تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعات ہیں۔ جب رات کا آخری حصہ ہو تو ایک رکعت وتر پڑھ، پھر فجر سے پہلے دو رکعات پڑھ۔“ یعنی نماز فجر سے پہلے دو رکعات۔
(ب) عاصم احول اور لاحق بن حمید اس کی مثل حدیث بیان کرتے ہیں، اس میں کچھ الفاظ زائد ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو صبح سے پہلے جلدی ایک رکعت پڑھ۔“