السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الوتر بركعة واحدة ومن أجاز أن يصلي ركعة واحدة تطوعا باب: ایک رکعت وتر پڑھنے اور اس شخص کا بیان جس نے ایک رکعت نفل پڑھنے کی اجازت دی۔
حدیث نمبر: 4765
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْخَطِيبُ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ أَبُو بَحْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْأَلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: كَيْفَ يُصَلِّي أَحَدُنَا بِاللَّيْلِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ تُوتِرُ لَكَ مَا مَضَى مِنْ صَلَاتِكَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو سنا، وہ نبی ﷺ سے سوال کر رہا تھا اور آپ ﷺ منبر پر تھے کہ ہم میں سے کوئی رات کی نماز کیسے پڑھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو دو رکعات، پھر جب تمہیں صبح کا اندیشہ ہو تو اپنی پڑھی ہوئی نماز کو وتر بنانے کے لیے ایک رکعت مزید پڑھ لو۔“